تعارف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یہ ویب سائٹ فتاویٰ تاج الشریعہ کا آن لائن ذخیرہ ہے، جو حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمہ کے تحریر فرمودہ فتاویٰ پر مشتمل ہے۔ اس مجموعے میں کل ۲۱۴۷ فتاویٰ شاملِ اشاعت ہیں جو ۱۲ جلدوں میں مرتب کیے گئے ہیں۔ فتاویٰ کو ابواب اور جلدوں کے اعتبار سے مرتب کیا گیا ہے تاکہ قارئین بہ آسانی اپنے مطلوبہ مسئلے تک پہنچ سکیں، نیز اردو متن میں تلاش کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
احوالِ واقعی
مرکزِ اہلِ سنّت بریلی شریف کو یہ طرۂ امتیاز حاصل ہے کہ جب جب اسلامیانِ ہند کی طرف کفر و ضلالت اور ظلم و استبداد کے طوفانوں نے رخ کیا، تب اس نے اپنے علم و عرفان اور عشق و ایمان کی ساری توانائیوں کو بروئے کار لا کر اس بادِ مخالف کا رخ موڑ دیا، اور ملّت کے ایمان و اسلام کی حفاظت و صیانت کا اہم فریضہ انجام دیتے ہوئے جس وقت جس حربے کی ضرورت پڑی، بروقت فراہم کیا۔
مجاہدِ جنگِ آزادی حضرت علامہ رضا علی خان قادری بریلوی، خاتم المحقّقین حضرت علامہ نقی علی خان قادری بریلوی، اعلیٰ حضرت مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضا خان قادری بریلوی، حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان قادری بریلوی، مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان قادری بریلوی اور مفسرِ اعظم ہند حضرت علامہ ابراہیم رضا خان قادری بریلوی قدست اسرارہم نے اپنے اپنے دور میں تبلیغ و ارشاد اور دعوت و اصلاح کے ذریعے مسلمانانِ ہند کے ایمان و اسلام کی حفاظت فرمائی، اور اپنے بعد ایسے جانشین چھوڑے جو کہیں صدر الشریعہ، کہیں ملک العلماء، کہیں صدر الافاضل، کہیں شیرِ بیشۂ اہلِ سنّت، کہیں برہانِ ملّت، کہیں قطبِ مدینہ، کہیں محدّثِ اعظم اور کہیں مجاہدِ ملّت کی شکل میں پورے عالم کو اپنے علمی فیضان سے معطر و عطر بیز کر گئے۔
سلسلۂ افتاء
خاندانِ رضا میں فتویٰ نویسی کی یہ ایمان افروز روایت ایک صدی سے زائد عرصے سے مسلسل چلی آ رہی ہے۔ دنیا میں بہت کم خاندانوں کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے کہ ایک ہی خاندان اور ایک ہی نسل میں مسلسل کئی صدیوں تک علم و فضل اور شہرت و شرافت کا دریا موجیں لیتا رہے:
- ۱امام الفقہاء — مفتی محمد رضا علی خان قادری بریلوی۱۲۴۶ھ/۱۸۳۱ء تا ۱۲۸۲ھ/۱۸۶۵ء · قریباً ۳۴ سال
- ۲خاتم الفقہاء — مفتی محمد نقی علی خان قادری بریلوی۱۸۴۷ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء · قریباً ۳۳ سال
- ۳اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی — مجدّدِ دین و ملّت۱۲۸۶ھ/۱۸۶۹ء (بعمر ۱۳ سال) تا ۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء · قریباً ۵۲ سال
- ۴حجۃ الاسلام — مفتی محمد حامد رضا خان قادری بریلوی۱۳۱۲ھ/۱۸۹۵ء تا ۱۳۶۲ھ/۱۹۴۳ء · قریباً ۴۸ سال
- ۵مفتیِ اعظم ہند — مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان قادری بریلوی۱۳۲۸ھ/۱۹۱۰ء تا ۱۴۰۲ھ/۱۹۸۱ء · قریباً ۷۱ سال
- ۶تاج الشریعہ — مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری بریلوی۱۹۶۷ء سے سلسلہ جاری · ۳۵ سال سے زائد
گویا خاندانِ رضا میں فتویٰ نویسی کا یہ سلسلہ سوا سو برس سے زائد عرصے سے بلا انقطاع جاری ہے۔ مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے اپنی حیات ہی میں حضور تاج الشریعہ کو اپنا جانشین منتخب فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”اختر میاں! اب مجھے گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ بیٹھنے نہیں دیتے؛ اب تم اس کام کو انجام دو، میں اسے تمہارے سپرد کرتا ہوں“، پھر حاضرین سے فرمایا: ”آپ لوگ اب اختر میاں سلّمہ سے رجوع کریں، انھیں میرا قائم مقام اور جانشین جانیں“۔
مرکزی دار الافتاء
حضور مفتیِ اعظم ہند کے وصال کے بعد اسلامیانِ ہند نے اپنے دینی و ملّی معاملات میں احکامِ شرعیہ سے آگاہی کے لیے براہِ راست حضور تاج الشریعہ سے استفتاء کا آغاز کیا۔ آپ قریباً ڈیڑھ سال تک ان کے مدلّل و مفصّل جوابات تحریر فرماتے رہے، لیکن رفتہ رفتہ سوالات کی کثرت ہونے لگی تو آپ نے محسوس فرمایا کہ بروقت جوابات کی تحریر کے لیے ایک باقاعدہ ٹیم کی ضرورت ہے۔ چنانچہ آپ نے سنہ ۱۹۸۲ء میں ”مرکزی دار الافتاء“ قائم فرمایا، اور بعد ازاں استاذ الفقہاء عمدۃ المحقّقین حضرت علامہ قاضی عبد الرحیم بستوی کو تشریف لائے، جس سے دار الافتاء کا کام بحسن و خوبی انجام پانے لگا۔
بانیِ مرکزی دار الافتاء فقیہِ ملّت تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خان القادری الازہری البریلوی دام ظلہم کے علاوہ متعدد مفتیانِ کرام اس عظیم خدمت میں مصروف رہے۔ آج مرکزی دار الافتاء میں استفتاءات کی کثرت اس درجہ ہے کہ کم و بیش پانچ سو (۵۰۰) استفتاء فی ہفتہ کے انبار لگ جاتے ہیں۔
حضور تاج الشریعہ نے اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے علماء سازی کے لیے ”مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا“ قائم فرمایا، اور مرکزی دار الافتاء میں ایک باقاعدہ تربیتی شعبہ (تربیتِ افتاء) بھی جاری فرمایا، جہاں علماء کرام باقاعدہ تربیتِ افتاء حاصل کرتے ہیں۔ آپ نے ”تخصص فی الفقہ“ کے تحت علماء کرام کو ”رسم المفتی“، ”اجلی الاعلام“ اور ”بخاری شریف“ وغیرہ کا درس بھی عطا فرمایا۔
آج پورے ایشیا میں، بالخصوص بریلی شریف کے ”مرکزی دار الافتاء“ کے فتاویٰ کو سند کی حیثیت حاصل ہے، اور عند العوام و الخواص جو اہمیت و وقعت اور عظمت حضور تاج الشریعہ کے تحریر کردہ فتویٰ کو حاصل ہے، دنیائے سنّیت کے بڑے بڑے مفتیانِ کرام کے فتاویٰ کو حاصل نہیں۔

